Skip to main content

سی آئی آئی ٹی کی تاریخ

تاریخی نقطہ نظر

کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ان دی ساتھ یا "جنوب میں پائیدار ترقی کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کا کمیشن" کامسیٹس (COMSATS) ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اس کا مقصد سائنس او رٹیکنالوجی کے مفید اطلاق سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا کے بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کے زیر قیادت کامسیٹس کی تشکیل کی تجویز ”تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز(ٹی۔ ڈبلیو۔ اے ۔ایس) نے پیش کی ۔

کامسیٹس کے سنگ بنیاد کا اجلاس 4اور 5اکتوبر 1994کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں چھتیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاءمیں ہاسئیس وزرائ، اسلام آباد کے سفارتی حلقے کے ارکان اور یونیسکو، یو این آئی ڈی او، یواین ای پی اور ورلڈ بینک جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شکرت کی۔ اجلاس نے یہ فیصلہ کیا کہ کمیشن کے ہیڈکواٹر/سیکٹریٹریٹ مستقلاً اسلام آباد میں ہونگے اور پاکستان میں مملکت کا سربراہ فورم کے پہلے چیئر پرسن کے عہدہ پر فائز ہوگا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ میزبان حکومت یعنی پاکستان سیکریٹریٹ کے عملی اور انتظامی اخراجات فراہم کرے گی، جبکہ کمیشن کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے ٹیکنیکل اسسٹنس فنڈ سے سرمایہ اور اعانت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈ کا قیام رکن ممالک سے حاصل کردہ چندے رکن ممالک کو فراہم کی گئی خدمات کی آمدن، بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے وصول کردہ امداد اور اگر زیر معاہدہ لیے گئے ہوں،پراجیکٹ فنڈز کے ذرریعے کیا جائے گا۔

سی۔آئی۔آئی۔ٹی کا قیام جنوب میں پائیدار ترقی کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے کمیشن، کامسیٹس (COMSATS)کے ایک منصوبے کے طور پر عمل میں آیا جو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے تین براعظموں کے 21رکن ممالک پر مشتمل ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جس میں بنگلہ دیش، چین، کولمبیا، مصر، گھانا، ایران، جمیکا، اردن، قازقستان، کوریا (ڈی پی آر کے) نائیجیریا، پاکستان، فلپائن، سینیگال، سری لنکا، سوڈان، شام، تنزانیہ، توسینیا، یوگینڈااور زمبابوے شامل ہیں۔ فی الوقت سی آئی آئی ٹی کو ڈگری عطا کرنے کا اختیار رکھنے والے، اعلیٰ تعلیم کے سرکاری شعبہ کے ایک ادارے کا درجہ حاصل ہے۔

قیام/چارٹر

1998/اگست 2000

نصب العین

سی۔آئی۔آئی۔ٹی کے نصب العین میں ملک کے چوٹی کے تحقیقی اداروں میں سے ایک بننا اور اعلیٰ تعلیم مہیا کرنے والے بہترین اداروں میں سے ایک ہونا، دونوں شامل ہیں۔ اس کا مطمع نظر کامسیٹس(COMSATS)یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کی تشکیل ہے جس کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ قانونی دستاویزات کے حوالے کارروائی جاری ہے۔

مشن

ادارے کا مشن سہ جہتی ہے؛

(۱) تحقیق اور دریافت

علم کا اجراءاور محافظت، جاننے کے عمل کی طرف رغبت کے ذریعے سمجھ بوجھ اور تخلیقی عمل اور ایسے وظائف کا فروغ جن سے طلباءسکالرز، ملک کے طول و عرض پر رہنے والے لوگ، امت مسلمہ اور عام طور پر پوری دنیا استفادہ حاصل کرسکے۔

(۲) تدریس اور تعلیم

اپنے علم، ادراک اور تخلیقی صلاحیتوں کو، وسیع پیمانے پر محیط تعلیمی پروگراموں کے ذریعے طلباءاور اساتذہ کی ایک متفرق کمیونٹی تک پہنچانا اور گریجویٹ، پیشہ ور اور انڈر گریجویٹ طالب علموں کے ساتھ ساتھ ایسے طلباءتیار کرنا جو ڈگری کے متلاشی نہیں لیکن مسابقت اور ثقافتی تنوع کے ماحول میں ایک سرگرم کردار ادا کرنے کے لیے تمام عمر سیکھنے اور تعلیم کے عمل کو جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

(۳) رسائی اور خدمت عامہ

تنظیموں اور افراد کو بدلتے ہوئے ماحول میں ردِ عمل دینے میں مدد فراہم کرکے، اور ادارے میں تخلیق کردہ اور محفوظ کردہ علم اور وسائل تک تمام شہریوں کو رسائی دیتے ہوئے، ادارے اور معاشرہ کے مابین، ذہنی، سماجی اور تکنیکی مسائل پر عالمانہ مہارت کے اطلاق کے ذریعے علم کا اطلاق، ترسریل اور تبادلہ۔ ادارے کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے تمام کیمپس کے وسائل کو ایک یکجا صورت میں استعمال کرتے ہوئے، ایک جدید ورک فورس کی تعلیم، تحقیق اور ترقی، صنعتی ٹیکنالوجی ، کاروباری حلقے، حکومت اور مختلف کمیونٹی گروپس کے ساتھ شراکت کے ذریعے مملکت کے لیے اپنی خدمات کو ایک ٹھوس شکل دے ۔